پیر 8 جون 2026 - 15:14
علماء و روحانیت کا لباس، انذار اور معارفِ اہل بیت (ع) کی تبلیغ کا مقدمہ قرار پاتا ہے

حوزہ / حجت الاسلام والمسلمین مہدوی نے کہا: معارفِ اہل بیت (ع) کی تبلیغ کے مقدمات میں سے ایک روحانیت کے مقدس لباس اور امام زمانہ (عج) کی سربازی کا لباس پہننا ہے۔ حقیقتاً ایک طالب علم اس لباس و شبیہ کے ساتھ ایسا اثر رسوخ اور انذار رکھتا ہے جس سے دوسرے محروم ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ علمیہ صاحب الزمان (عج) بشاگرد کے مدیر حجت الاسلام والمسلمین مہدوی نے طلاب کی عمامہ پوشی کی تقریب میں خطاب کے دوران کہا: تفقہ کی ترغیب کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہر قوم، گروہ اور علاقے میں سے کچھ لوگ دین شناس بننے کے لیے جائیں۔ یہاں تفقہ سے مراد صرف موجودہ معنوں میں فقیہ ہونا نہیں ہے بلکہ دین کو سمجھنے اور عمیق دینی سمجھ حاصل کرنا ہے۔ اصل ہدف یہ ہے کہ طلبہ حوزات علمیہ میں تعلیم حاصل کریں تاکہ وہ انذار کر سکیں۔

انہوں نے مزید کہا: یہ انذار بہت اہم ہے اور اس کے مقدمات میں سے ایک، روحانیت کے مقدس لباس اور امام زمانہ (عج) کی سربازی کا لباس پہننا ہے۔ حقیقتاً، ایک طالب علم اس لباس و شبیہ کے ساتھ ایسا اثر رسوخ اور انذار رکھتا ہے جس سے دوسرے محروم ہیں۔ علامہ طباطبائی (رض) سے ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ایک بار میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھ سے کہا گیا: تم پچیس سال سے ہماری خدمت کر رہے ہو۔ جب میں نے تاریخ دیکھی تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ پچیس سال بالکل اسی وقت سے شروع ہوئے جب میں نے روحانیت کا لباس پہنا تھا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ خود روحانیت کا یہ شریف لباس و شکل و شمائل اہل بیت (ع) کی توجہ اور عنایت کا مرکز ہے۔

مدرسہ علمیہ صاحب الزمان (عج) بشارگرد کے مدیر نے کہا: ہمارے اساتذہ میں سے ایک بزرگ فرمایا کرتے تھے: جس طرح میں اپنے پاؤں قرآن کی طرف نہیں پھیلاتا، اسی طرح میں اپنی عمامہ کی طرف بھی نہیں پھیلاتا؛ چاہے وہ میرے گھر میں کسی طاق پر ہی کیوں نہ رکھا ہو۔ یہ شرافت اور فخر، آج آپ عزیزوں کو نصیب ہو رہا ہے۔ خدا توفیق دے کہ ہم اس نعمت کے شکر گزار ہو سکیں۔ ہر نعمت کا اپنا شکر ہوتا ہے اور اس شریف لباس کو پہننے کا شکر یہ آپ لوگوں کا وہ کردار ہے جو لوگوں کو اہل بیت (ع) کی طرف خوش بین بنائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha